LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا میں بادل کے اندر پراسرار یو ایف او کی موجودگی کا انکشاف

News Image
کینیڈا کے ایک پہاڑی قصبے کے اوپر بادل کے اندر ایک پراسرار اور روشن یو ایف او دیکھا گیا ہے۔ اس انوکھی تصویر نے سوشل میڈیا پر خلائی مخلوق کے محققین اور عام شہریوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔
کینیڈا کے ایک خوبصورت پہاڑی قصبے کے آسمان پر ایک انتہائی حیرت انگیز اور پراسرار منظر نے سب کی توجہ اپنی طرف کھنچ لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے کینمور میں دو اگست کو ایک ایسی تصویر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کی گئی جس میں مبینہ طور پر ایک بادل کے اندر کسی نامعلوم اڑن تشتری یعنی یو ایف او کو چھپے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور اس نے دنیا بھر کے محققین اور خلائی مخلوق کے چاہنے والوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہاڑوں کے اوپر موجود ایک عام سے لگنے والے بادل کے اندر سے پراسرار اور مدھم سی روشنی خارج ہو رہی ہے۔ اس انوکھے منظر کو دیکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی عام موسمیاتی مظہر نہیں ہے بلکہ بادل کے پیچھے کوئی خلائی جہاز یا 'کلائکڈ یو ایف او' چھپا ہوا ہے جو اپنے آپ کو انسانی آنکھ یا ریڈار سے چھپانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں نامعلوم اڑن تستریاں بادلوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب، ماہرینِ فلکیات اور موسمیات اس دعوے پر کافی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بادلوں کے اندر اس طرح کی روشنیاں اور عجیب و غریب شکلیں بننا ایک قدرتی عمل ہو سکتا ہے، جسے لینٹیکولر بادل کہا جاتا ہے جو اکثر پہاڑی علاقوں میں بنتے ہیں۔ سورج کی روشنی جب ان خاص بادلوں پر پڑتی ہے تو وہ بعض اوقات کسی خلائی جہاز کا گمان پیدا کرتی ہے۔ تاہم، عام لوگ اور یو ایف او کے شائقین اس سائنسی توجیہہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ یہ کسی انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوق کی کارروائی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے کینمور کا علاقہ ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آ گیا ہے۔ یو ایف او کے وجود پر یقین رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور خلائی اداروں کو اس قسم کے پراسرار مشاہدات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور عوام کے سامنے حقائق لانے چاہئیں تاکہ انکشافات کا یہ سلسلہ آگے بڑھ سکے۔ دریں اثنا، ماہرین اس تصویر کی مزید جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں کسی قسم کی ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کی گئی ہے یا یہ واقعی کوئی حقیقی غیر معمولی واقعہ ہے۔