LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹرز کے لیے ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی

News Image
سائنسدانوں نے نینو سٹرکچرڈ کاربن ڈیزائن کی مدد سے ایک نیا فیول سیل کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو انتہائی کم پلاٹینم استعمال کرتا ہے۔ یہ تکنیک ڈیٹا سینٹرز اور گاڑیوں کو ہائیڈروجن توانائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل سروسز کی وسعت کے ساتھ ہی ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی ضروریات میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں اور محققین نے ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جو مستقبل میں بجلی کے بھوکے ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک پائیدار اور موثر توانائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، ایک جدید نینو سٹرکچرڈ کاربن ڈیزائن تیار کیا گیا ہے جو فیول سیل کیٹالسٹس کو انتہائی قلیل مقدار میں پلاٹینم استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے جبکہ اس کی کارکردگی اور استحکام میں کوئی کمی نہیں آتی۔ روایتی طور پر فیول سیلز میں پلاٹینم کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے جو کہ ایک انتہائی قیمتی اور نایاب دھات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن فیول سیلز کی تجارتی سطح پر تیاری اور وسعت میں لاگت ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم، اس تازہ ترین سائنسی پیشرفت نے اس مسئلے کا ایک مؤثر حل تلاش کر لیا ہے۔ نینو سٹرکچرڈ کاربن کا یہ نیا ڈیزائن پلاٹینم کے زرات کو اس انداز میں متحرک رکھتا ہے کہ کم مقدار کے باوجود کیمیاوی ردعمل کی رفتار تیز رہتی ہے اور سیل طویل عرصے تک بغیر کسی خرابی کے کام کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ڈیٹا سینٹرز بلکہ برقی گاڑیوں اور دیگر ہیوی انڈسٹری کے شعبوں میں بھی صاف توانائی کے حصول کے لیے انقلاب آفریں ثابت ہوگی۔ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع اپنانے کی جو کوششیں جاری ہیں، یہ پیشرفت ان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہائیڈروجن انرجی کو زیادہ عملی اور سستا بنانے کی راہ ہموار ہونے سے آنے والے دنوں میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور صنعتیں روایتی بجلی پر اپنی انحصار کم کر سکیں گی۔