Politics
امریکی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات، علاقائی امن میں پاکستان کے کردار کی تعریف
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے دورہ پاکستان پر آئے ہوئے امریکی قانون سازوں نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور معاشی شراکت داری کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
راولپنڈی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، دورہ پاکستان پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے اراکین نے جی ایچ کیو میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال، دو طرفہ دفاعی تعاون اور معاشی خوشحالی کے فروغ کے لیے مختلف راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکی وفد نے خطے کے اندر امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور تحسین کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار علاقائی استحکام معاشی ترقی، تجارت کے پھیلاؤ اور باہمی رابطوں سے جڑا ہوا ہے۔
آرمی چیف نے وفد کو ملک میں جاری ان ساختی اصلاحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو کاروبار دوست ماحول کو فروغ دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہیں۔ امریکی وفد کے ارکان، جن میں رائن کیتھ زنکی اور مائیکل جیمز شامل ہیں، نے پاکستان کی معاشی لچک اور اصلاحاتی عمل کو سراہا۔ دونوں طرف سے دو طرفہ معاشی روابط، نجی شعبے کی شراکت داری اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ امریکی قانون سازوں نے پرتپاک مہمان نوازی پر فوجی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے مابین گہرے معاشی، تجارتی اور ادارہ جاتی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ یہ امریکی اراکین گزشتہ ہفتے سے پاکستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے اپنے دورے کے دوران اسلام آباد اور لاہور کے اہم مقامات کا بھی دورہ کیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل پر گہرے اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ لاہور کے دورے کے دوران وفد نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور تاریخی مقامات بشمول بادشاہی مسجد اور لاہور قلعے کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں سمارٹ پولیسنگ اور پبلک سیفٹی سسٹمز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔