Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان، وزیر پیٹرولیم کا بیان
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے باب المندب کے راستے میں پھنسے پاکستانی تیل کے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں جس کا فائدہ براہ راست عوام کو ملے گا۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ یہ خوش آئند پیشرفت باب المندب کے حساس سمندری راستے پر حوثی حملوں کے باعث پھنس جانے والے پاکستان کے تیل کے کارگو جہازوں کی بحفاظت گزرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ ان کے جہاز اب محفوظ طریقے سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی خام تیل، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ حکومت ایک شفاف قیمتوں کے فارمولے پر عمل پیرا ہے جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ہفتہ وار اوسط کی بنیاد پر قیمتوں میں بہتری آئے گی۔ وزیر پیٹرولیم نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (او ٹی سی اے) کے وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد انکشاف کیا کہ ٹینکرز کے مالکان کے روڈ ٹرانسپورٹ کے کوٹے اور ٹرانسپورٹیشن کے کرایوں سے متعلق کچھ تحفظات تھے جو 2023 سے غیر تبدیل شدہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو افراط زر اور طے شدہ اخراجات کے تناظر میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کی سفارشات پیش کرے گی۔ او ٹی سی اے کے وفد نے بھی اس مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ باہمی بات چیت کے ذریعے تمام دیرینہ مطالبات حل ہو جائیں گے۔ وفاقی وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو سکے اور تیل کی ترسیل کا نظام مزید شفاف بنایا جا سکے۔