World
غزہ میں ایک اور قحط کا خطرہ، بچوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا
غزہ کے بچے 2025 کے قحط کے اثرات سے اب تک پوری طرح سنبھل نہیں پائے ہیں کہ خطے میں ایک اور غذائی ایمرجنسی سر اٹھانے لگی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت کی وجہ سے بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے محصور علاقے غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں کے بچے 2025 کے تباہ کن قحط کے اثرات سے اب تک باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ عالمی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق غزہ کے کم سن بچوں کو ایک بار پھر شدید غذائی قلت اور بھوک کا سامنا ہے، جو خطے میں ایک اور بڑے انسانی قحط کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل محاصرے، جنگی صورتحال اور امدادی سامان کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے غزہ کے عوام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بچوں میں غذائیت کی کمی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف ان کی جسمانی نشوونما رک رہی ہے بلکہ ان کی زندگیاں بھی براہ راست خطرے میں ہیں۔ ادویات اور دودھ کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مقامی اور بین الاقوامی امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو صورتحال بے قابو ہو جائے گی۔ آنے والے دنوں میں ایک نئی غذائی ایمرجنسی غزہ کے لاکھوں معصوم بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا نوٹس لیں اور فوری بنیادوں پر امدادی راہداریوں کو کھولیں تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔