Pakistan
پاکستان کا افغان طالبان کے اسلحہ اسمگلنگ کے الزامات پر سخت ردعمل
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے اسلحہ اسمگل کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اصل مسئلہ ہے جسے افغان حکومت کو حل کرنا چاہیے۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اتوار کے روز افغان طالبان کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سے افغانستان کے لیے اسلحہ اسمگل کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں ان دعوؤں کو غیر سنجیدہ، بے بنیاد اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ افغانستان پہلے ہی جدید ترین اسلحے اور عسکری سازوسامان سے اٹا پڑا ہے، جو امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑ دیا گیا تھا، جس کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ دہائیوں کے تنازعات کی وجہ سے وہاں پہلے ہی سوویت دور کا اسلحہ بھی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے اور پاکستان کے ساتھ ان کا مبینہ تعلق جوڑنے کی کوششیں دراصل بین الاقوامی برادری کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی ایک سازش ہیں۔ اصل اور دستاویزی تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں، جو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کو الزام تراشی اور نام نہاد الزامات لگانے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے اڈوں کا خاتمہ کرنا چاہیے اور اپنے ان وعدوں کو پورا کرنا چاہیے جن میں انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان طویل عرصے سے کابل حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اسلام آباد کے مطالبات کو اب تک خاطر میں نہیں لایا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ مہینوں میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحے کا دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگنا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔