LIVE
Loading Breaking News...

گوگل سیکیورٹی ماہر: ہیکنگ گروپس کو کوڈ نام کیوں دیے جاتے ہیں؟

News Image
سائبر سیکیورٹی کی صنعت میں ہیکنگ گروپس کے لیے کوڈ نام استعمال کرنے کا مقصد ان کی شناخت اور سرگرمیوں کو باآسانی سمجھنا ہے۔ گوگل کے ایک سیکیورٹی ماہر نے اس عمل کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ نام کس طرح خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مختلف ہیکنگ گروپس اور سائبر مجرموں کے گروہوں کو باقاعدہ نام یا کوڈ نام دینے کا رواج چلا آ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ نام، جیسے کہ فینسی بیئر، اپنی نمایاں اور اکثر خطرناک سرگرمیوں کی وجہ سے عام میڈیا اور مین اسٹریم میں بھی کافی مشہور ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں گوگل کے ایک سرکردہ سیکیورٹی ماہر نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخر کیوں سائبر سیکیورٹی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے ان گروپس کو مخصوص نام دیتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا تکنیکی و انتظامی وجوہات ہوتی ہیں۔ ماہر کے مطابق، جب مختلف ممالک یا آزاد گروپس کی طرف سے سائبر حملے کیے جاتے ہیں، تو ان حملوں کے پیچھے کارفرما پیٹرنز، ٹولز اور ہدف کو سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اصل ناموں یا ریاستی پشت پناہی کی فوری طور پر تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے کمپنیاں اپنی اندرونی درجہ بندی اور تحقیقات کو آسان بنانے کے لیے فرضی یا کوڈ نام استعمال کرتی ہیں۔ اس طریقہ کار سے دنیا بھر کے سیکیورٹی محققین کو ایک ہی گروپ کی نئی سرگرمیوں، میلویئر اور حملوں کے طریقوں کو ٹریک کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے، اور وہ باہمی اشتراک کے ذریعے بہتر دفاعی حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ کوڈ نام سائبر سیکیورٹی کی صنعت میں مواصلات کو بھی آسان بناتے ہیں۔ طویل اور پیچیدہ تکنیکی اصطلاحات یا آئی پی ایڈریسز کے بجائے ایک سادہ نام کے ذریعے پوری انڈسٹری کو خطرے سے متعلق خبردار کیا جا سکتا ہے۔ گوگل جیسے بڑے ادارے اس نظام کو مزید جدید بناتے ہوئے خطرات کی نشاندہی اور ان کی سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے باقاعدہ ٹیمیں تعینات کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جوں جوں سائبر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، ہیکنگ گروپس کی شناخت اور ان کی درجہ بندی کا یہ نظام سیکیورٹی کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔