LIVE
Loading Breaking News...

پاک فضائیہ افسر قتل کیس: ملزم سعد عباسی کا جسمانی ریمانڈ منظور

News Image
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل سعد عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید سات دن کی توسیع کر دی ہے۔ پولیس نے ملزم سے مزید تفتیش اور موبائل فون کی برآمدگی کے لیے عدالت سے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیر کے روز پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل سعد عباسی کو مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ یاد رہے کہ رواں سال پانچ جولائی کو اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کو اس وقت شہید کر دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک خاتون کو زبردستی اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنانے کی کوشش کی تھی۔ ملزم سعد عباسی نے مداخلت کرنے پر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کا افسر جام شہادت نوش کر گیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے اس اندوہناک واقعے کے محض نو گھنٹوں کے اندر ہی ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک بڑی کارروائی تھی۔ پیر کے روز مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں ہوئی۔ ملزم سعد عباسی کو اس کے ابتدائی سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد عدالت میں دوبارہ پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے ملزم کے مزید پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ واقعے میں استعمال ہونے والا پستول پہلے ہی برآمد کیا جا चुका ہے جسے ملزم نے واردات کے بعد چھپا دیا تھا۔ تاہم انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا موبائل فون تاحال برآمد نہیں کیا جا سکا ہے اور مزید تفتیش کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔ دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کچھ دیر کے لیے فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعد میں ملزم سعد عباسی کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ملزم کو اگلی سماعت پر تین اگست کو دوبارہ عدالت کے روبرو پیش کریں۔