Technology
ہاور ایئر ورسا: پاکٹ گিমبل سے ڈرون بننے والا نیا کیمرہ
ہاور ایئر نے ایک ایسا جدید ترین پاکٹ سائز کیمرہ متعارف کرایا ہے جو ہاتھ سے ہینڈ ہیلد گিমبل کی طرح استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ چند لمحوں میں اڑنے والے ڈرون میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ ڈیوائس بغیر کسی کنٹرولر کے خودکار طریقے سے کام کرتی ہے اور تکنیکی دنیا میں اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہمیشہ سے ایسی ایجادات کی تلاش رہتی ہے جو صارفین کے لیے سہولت اور پورٹیبلٹی میں اضافہ کریں۔ اس سلسلے میں 'ہاور ایئر' نامی کمپنی نے کئی سالوں کی محنت کے بعد ایک ایسا حیرت انگیز پرسنل کیمرہ تیار کیا ہے جو روایتی ڈرون اور گিমبل کیمروں کے تصور کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ کمپنی کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ جدید ترین ماڈل ورسا کہلاتا ہے، جو کہ سائز میں انتہائی چھوٹا ہونے کے باوجود بہترین کارکردگی کا حامل ہے۔ اس ڈیوائس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پاکٹ سائز ہینڈ ہیلد ڈیوائس کے طور پر کام کرتی ہے جس میں تھری ایکسس گিমبل نصب ہوتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر یہ محض چند سیکنڈ میں فضا میں بلند ہو کر خودکار طریقے سے اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
اس سے پہلے بھی مارکیٹ میں سیلف فلائنگ کیمرے موجود ہیں لیکن ورسا کا ڈیزائن اور اس کا استعمال ان سب سے منفرد ہے۔ کمپنی نے ڈرون کے بڑے سائز اور پیچیدہ کنٹرولرز کے فارم فیکٹر کو سمیٹ کر انتہائی کم جگہ میں ڈھال دیا ہے۔ صارف کو اسے اڑانے کے لیے کسی روایتی ریموٹ کنٹرول یا پیچیدہ سیٹ اپ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جیب میں آسانی سے فٹ ہونے والا یہ کیمرہ باہر گھومنے پھرنے والے افراد، بلاگرز اور ویڈیو سازوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ثابت ہو سکتا ہے جو چلتے پھرتے بہترین ویڈیو شوٹ کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی فضائی مناظر بھی کیمرے میں محفوظ کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اس ہینڈ ہیلد گিমبل کیمرے کی بدولت اب صارفین کو الگ سے بھاری بھرکم ڈرون اور کیمرے اٹھانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ہاور ایئر کا یہ نیا قدم اس بات کا غماز ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی زیادہ کمپیکٹ، ملٹی فنکشنل اور صارف دوست ہونے جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈیوائس کے مارکیٹ میں آنے سے کنٹینمٹ کریٹرز اور ایڈونچر کے شوقین افراد کو ویڈیوز بنانے میں بے پناہ آسانی ہوگی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیمرے کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، جس کے بعد یہ ٹیکنالوجی کے شوقین افراد میں مزید مقبول ہو جائے گی۔