Science
نیو جرسی کا شہاب ثاقب اور زمین پر حیات کی ابتدا کے راز
امریکہ کے علاقے نیو جرسی میں ایک گھر کی چھت کو توڑ کر گرنے والے نایاب شہاب ثاقب میں قدیم نمکین سیال مادے، نامیاتی مرکبات اور امینو ایسڈز پائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت ابتدائی زمین پر زندگی کیلیے ضروری اجزاء کی فراہمی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں گزشتہ دنوں ایک رہائشی مکان کی چھت کو چیرتا ہوا زمین پر گرنے والا نایاب شہاب ثاقب سائنسدانوں کے لیے انتہائی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔ اس خلائی چٹان کے ٹکڑے پر کی جانے والی ابتدائی سائنسی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ اس کے اندر قدیم نمکین سیال مادے، پیچیدہ نامیاتی مرکبات اور امینو ایسڈز موجود ہیں۔ یہ تمام اجزاء وہ بنیادی عمارت کے پتھر مانے جاتے ہیں جو کائنات کے ابتدائی دور میں حیات کی تشکیل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ماہرین فلکیات اور ارضیاتی سائنسدان اس پراسرار شہاب ثاقب کے نمونوں کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کر رہے ہیں تاکہ اس کی کیمیائی ساخت کے تمام تہوں کو سمجھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، یہ شہاب ثاقب ایک بہت ہی قدیم اور ابتدائی کشودرگر (primitive asteroid) کا حصہ ہے، جو اربوں سال پہلے ہمارے نظام شمسی کے کسی حصے سے الگ ہو کر مدار میں سفر کر رہا تھا۔ جب یہ فضا میں داخل ہو کر نیو جرسی کے ایک گھر کی چھت پر گرا، تو اس کی انتہائی پچییدہ اور خالص کیمیائی حالت محفوظ رہی، کیونکہ فضا اور زمین پر پہنچنے کے بعد اسے کم سے کم نقصان پہنچا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے شہاب ثاقب اربوں سال قبل ابتدائی زمین پر بمباری کی صورت میں گرے ہوں گے، اور انہی خلائی چٹانوں نے زمین پر وہ نمدار اور نامیاتی ماحول فراہم کیا جو آگے چل کر زمین پر زندگی کی پیدائش اور ارتقا کا سبب بنا۔
اس تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شہاب ثاقب میں پائے جانے والے امینو ایسڈز اور نامیاتی مرکبات اس بات کی ایک اور مضبوط دلیل ہیں کہ زمین پر حیات کے لیے درکار بنیادی کیمیائی مادے بیرونی خلا سے بھی منتقل ہوئے تھے۔ یہ دریافت کائنات میں زندگی کے امکانات اور نظام شمسی کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید وسیع کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس خلائی چٹان پر مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں موجود نمکین سیال کس ماحول میں بنے تھے اور اس طرح کے مزید کتنے راز خلا کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔