LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی انڈسٹری کا خودکار نگران نظام اور جینس ایکٹ کا جائزہ

News Image
واشنگٹن میں جینس ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے اسسٹنٹ اور مشین ٹرانزیکشنز کے معاملات تاحال التوا کا شکار ہیں۔ انڈسٹری کے ماہرین نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے خود ہی ضابطہ کار بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں اس وقت جینس ایکٹ (GENIUS Act) پر بحث اور قانون سازی کا عمل جاری ہے، جو بنیادی طور پر اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ تاہم، اس تمام تر پیشرفت کے باوجود مشین کے ذریعے شروع ہونے والے لین دین (machine-initiated transactions) کے طریقہ کار اور تکنیکی باریکیوں کو تاحال نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کانگریس میں ان امور پر تفصیلات طے کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازی میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ انڈسٹری نے خود ہی اس معاملے کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب قانون ساز ادارے بروقت فیصلے کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو مارکیٹ خود بخود اپنے ضابطے تشکیل دینا شروع کر دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے کے اہم کھلاڑی خود اپنا نگران نظام تشکیل دے رہے ہیں۔ اس خود ساختہ ریگولیٹری فریم ورک کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مشین ٹرانزیکشنز محفوظ ہوں اور ان کے لیے واضح اصول و ضوابط موجود ہوں، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مالیاتی اور تکنیکی بحران سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، واشنگٹن کے حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر انڈسٹری خود اپنے ضابطے بنائے گی تو اس سے سرکاری نگرانی اور نجی شعبے کے مفادات کے درمیان توازن بگڑ سکتا ہے۔ تاہم، صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کانگریس کی تاخیر کی وجہ سے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے۔ کاروبار اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار دنیا میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ سسٹمز بلا تعطل چلتے رہیں اور ان کے لیے شفاف قوانین پہلے سے موجود ہوں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا واشنگٹن کے قانون ساز اس انڈسٹری کے خود ساختہ نگران نظام کو تسلیم کرتے ہیں یا پھر کوئی جامع سرکاری لائحہ عمل سامنے لاتے ہیں۔ فی الحال، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریگولیشن کے روایتی انداز بدل رہے ہیں اور مارکیٹ کے کھلاڑی خود اپنے ضابطہ کار بننے کی طرف تیزی سے قدم بڑھا رہے ہیں تاکہ بدلتے ہوئے معاشی و تکنیکی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔