LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی سیکٹر میں برطرفیاں، اے آئی کی وجہ سے نوکریاں ختم

News Image
ٹیکنالوجی کے شعبے میں جون کے دوران برطرفیوں کی شرح بڑھ کر 2.3 فیصد ہو گئی ہے جو کہ 2008 کے مالی بحران اور 2001 کی مندی سے بھی زیادہ ہے۔ اوریکل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیے جانے کے بعد مصنوعی ذہانت کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمین کی برطرفیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں ٹیک سیکٹر کی برطرفیوں کی شرح بڑھ کر 2.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ شرح سنہ 2008 کے مالیاتی بحران اور سنہ 2001 کی کساد بازاری کے دوران دیکھی جانے والی چوٹیوں سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جو کہ موجودہ معاشی اور تکنیکی تبدیلیوں کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ہی ماہ کے دوران دنیا بھر میں لگ بھگ تریسٹھ ہزار (63,000) ورکرز کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے، جس نے تکنیکی ماہرین میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی چھانٹیوں کے پیچھے سب سے بڑی اور نمایاں وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال اور اس کی ترویج ہے۔ بڑی بڑی نامور کمپنیاں اپنی روایتی افرادی قوت کو کم کر کے ان کی جگہ اے آئی سسٹمز اور آٹومیشن ٹولز کو ترجیح دے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معروف ٹیک جائنٹ اوریکل نے اکیلے ہی اکیس ہزار (21,000) ملازمین کو برطرف کیا ہے، جو کہ اس کٹائی کا ایک بہت بڑا حصہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی کمپنیاں بھی اپنے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے نام پر ہزاروں عہدے ختم کر چکی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ کمپنیاں اخراجات میں کمی اور منافع میں اضافے کے لیے انسانی لیبر کے بجائے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر انحصار بڑھا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے جاب مارکیٹ میں ایک زبردست عدم استحکام پیدا کر دیا ہے اور آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے کیسے نمٹیں۔