Technology
الفابیٹ کا 2026 میں اے آئی انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا اعلان
گوگل کیپرنٹ کمپنی الفابیٹ نے سال 2026 کے لیے اپنے کیپیٹل ایکسپنڈیچر کو بڑھا کر 195 سے 205 ارب ڈالر کے درمیان کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بڑے مالیاتی اقدام سے دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے کو تقویت ملے گی جس سے معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں اینویڈیا اور براڈکام براہ راست مستفید ہوں گی۔
گوگل کی ہولڈنگ کمپنی الفابیٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سال 2026 کے لیے اپنے کیپیٹل ایکسپنڈیچر (capex) کے تخمینے میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ الفابیٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ مالیاتی منصوبوں کے مطابق کمپنی کا یہ سرمایاتی تخمینہ 195 ارب ڈالر سے لے کر 205 ارب ڈالر تک ہوگا۔ اس متوقع بھاری بھرکم سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت و نفاذ کے لیے درکار ہارڈویئر کی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اسٹریٹجک تبدیلی سے نہ صرف الفابیٹ کے اپنے ڈیجیٹل اور اے آئی سسٹمز کو تقویت ملے گی بلکہ عالمی سطح پر اس کا مثبت اثر ہارڈویئر ساز اداروں پر بھی پڑے گا۔ اس بڑی سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں اینویڈیا اور براڈکام سر فہرست ہیں۔ چونکہ اے آئی کے نفاذ کے لیے طاقتور پروسیسرز اور چپ سیٹس کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اینویڈیا اور براڈکام جیسے بڑے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچررز کو الفابیٹ کے اس منصوبے سے اربوں ڈالر کے نئے کاروباری مواقع ملنے کا قوی امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری یہ سخت مسابقت اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی کمپنیاں اب اے آئی کے مستقبل پر بڑا داؤ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ الفابیٹ کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ دنیا کی معیشت اور کارپوریٹ دنیا کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے، جس سے اس سے جڑی دوسری اہم کمپنیوں کی مارکیٹ پوزیشن میں بھی تاریخی بہتری متوقع ہے۔