LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں الیکٹرک ایئر ٹیکسیز کا پراجیکٹ، 2028 تک پروازیں متوقع

News Image
بھارت کی وزارتِ شہری ہوا بازی نے سال 2028ء تک ملک میں الیکٹرک ایئر ٹیکسیز چلانے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کے لیے آئندہ برس آزمائشی پروازوں کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے بڑے اور گنجان آباد شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرتے ہوئے نقل و حمل کا ایک جدید اور ماحول دوست ذریعہ فراہم کرنا ہے۔
بھارت نے فضائی نقل و حمل کے شعبے میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سال 2028ء تک ملک میں الیکٹرک ایئر ٹیکسیز کا باضابطہ آغاز کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہری ہوا بازی کی وزارت کے زیرِ نگرانی آئندہ برس آزمائشی پروازوں اور ٹیسٹنگ کے عمل میں نمایاں تیزی لائی جائے گی تاکہ اس نئی ٹیکنالوجی کی حفاظت اور کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے بڑے اور شدید ٹریفک مسائل کا شکار شہروں کے لیے ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ یعنی ای وی ٹی او ایل طیارے روایتی سڑکوں کے سفر کا ایک بہترین اور تیز رفتار متبادل فراہم کریں گے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ اس وقت مختلف کمپنیاں اس شعبے میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جن میں سارلا ایوی ایشن بھی شامل ہے جو ایک ایسا چھ مسافروں کی گنجائش والا ای وی ٹی او ایل طیارہ تیار کر رہی ہے جس میں سات الیکٹرک موٹرز نصب ہوں گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے ملک کے میٹروپولیٹن شہروں میں روزمرہ کی آمدورفت کے ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے۔ متوقع منصوبے کے تحت ابتدا میں بڑے شہروں کے اہم مقامات اور ہوائی اڈوں کے درمیان ایئر ٹیکسی سروس فراہم کی جائے گی تاکہ مسافروں کو ٹریفک کے طویل جام سے نجات مل سکے۔ وزارتِ شہری ہوا بازی اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ تمام حفاظتی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضوابط جلد از جلد طے کیے جائیں تاکہ مقررہ مدت یعنی 2028ء تک الیکٹرک ایئر ٹیکسیز کو کامیابی کے ساتھ فضا میں اتارا جا سکے۔