LIVE
Loading Breaking News...

مارک ٹوین کا زندگی کی غیر یقینی صورتحال پر مشہور قول

News Image
مشہور امریکی مصنف مارک ٹوین کا یہ قول ہمیں زندگی کی غیر یقینی صورتحال اور توقعات کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔ انسان ہمیشہ یقینی صورتحال کی تلاش میں رہتا ہے لیکن زندگی کے حقائق اس سے مختلف ہوتے ہیں۔
مارک ٹوین کا شمار دنیا کے عظیم ترین مصنفین اور طنز نگاروں میں ہوتا ہے جن کے اقوال صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ایسا ہی مشہور قول ہے کہ 'آب و ہوا وہ ہے جس کی ہم توقع کرتے ہیں، موسم وہ ہے جو ہمیں ملتا ہے'۔ بظاہر یہ جملہ موسمیاتی حالات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پس منظر میں ایک گہرا فلسفیانہ اور زندگی کا سبق پوشیدہ ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ زندگی میں یقین دہانی اور تسلسل کی تلاش میں رہتی ہے۔ ہم اپنے روزمرہ کے معمولات، شیڈول اور مستقبل کے بارے میں منصوبے اس لیے بناتے ہیں تاکہ اس غیر یقینی دنیا کو اپنے قابو میں محسوس کر سکیں۔ جس طرح ہم موسم کی پیشگوئی پر بھروسہ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح انسان بھی اپنی زندگی میں آنے والے دنوں کے لیے توقعات باندھ لیتا ہے اور یہی توقعات اکثر مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ مارک ٹوین کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی حقیقت کسی کے بنائے ہوئے منصوبوں کی پابند نہیں ہوتی۔ جس طرح موسمیاتی تبدیلیاں اور اچانک بارش یا دھوپ انسان کے قابو میں نہیں ہوتی، اسی طرح زندگی کے نشیب و فراز بھی انسان کی توقعات سے بالاتر ہو کر رونما ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انسان میں لچک پیدا ہوتی ہے اور وہ مشکلات کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔ آخر کار، یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کی غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس حقیقت کو قبول کیا جائے۔ جب انسان توقعات کی قید سے آزاد ہو کر حقیقت کا سامنا کرنا سیکھ جاتا ہے، تب ہی وہ زندگی کے حقیقی معنی اور اس کی خوبصورتی کو سمجھ سکتا ہے۔ مارک ٹوین کا یہ فلسفہ آج کے دور میں بھی اتنا ہی سার্থক ہے جتنا اپنے وقت میں تھا۔