LIVE
Loading Breaking News...

سوراب میں کرفیو نافذ، خضدار میں تجارتی اوقات کار تبدیل

News Image
بلوچستان کے ضلع سوراب میں امن و امان کے خدشات کے پیش نظر 15 اگست تک رات آٹھ بجے سے صبح نو بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلعی انتظامیہ خضدار نے بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث تمام تجارتی مراکز کو رات آٹھ بجے سے صبح دس بجے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع سوراب میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اتوار کے روز پورے ضلع میں 15 اگست تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کرفیو 9 اگست سے 15 اگست 2026 تک روزانہ رات 8 بجے سے صبح 9 بجے تک نافذ العمل رہے گا۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرفیو کے اوقات میں غیر ضروری طور پر اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے جاری کردہ سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد خود اپنے کسی بھی نقصان کے ذمہ دار ہوں گے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب، خضدار کی ضلعی انتظامیہ نے بھی سیکیورٹی خدشات کے تحت ضلع بھر کے تجارتی مراکز کے لیے اوقات کار میں اہم ترامیم کا اعلان کر دیا ہے۔ خضدار کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ عارضی قدم شہریوں اور تاجر برادری کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ نئے حکومتی احکامات کے تحت خضدار ضلع کی تمام مارکیٹیں، دکانیں، ہوٹل اور دیگر تجارتی ادارے روزانہ رات 8 بجے سے صبح 10 بجے تک بند رہیں گے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے اور اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔ تاہم طبی خدمات کی بنیادی اہمیت کے پیش نظر فارمیسیوں، میڈیکل اسکورز، نجی اسپتالوں اور دیگر صحت سے متعلقہ اداروں کو اس پابندی سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنرز، مجسٹریٹس اور پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انتظامیہ نے تاجروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی خدشات کو کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے بہتر جائزے کے بعد ہی ان پابندیوں میں نرمی یا تبدیلی پر غور کیا جائے گا۔