Technology
مصنوعی ذہانت میں سرمائے کا بلبلہ اور مستقبل کے خطرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت تکنیکی طور پر انقلابی ہونے کے باوجود سرمائے کے ایک بڑے بلبلے کو جنم دے سکتی ہے۔ اس بلبلے کے پھٹنے کے لیے اے آئی کی ناکامی ضروری نہیں بلکہ قابلِ استعمال رسد کا طلب سے تیزی سے بڑھنا کافی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا شعبہ اس وقت دنیا بھر میں سرمایہ کاری کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن ماہرینِ معیشت اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی انقلابی نوعیت کے باوجود یہاں سرمائے کا ایک بڑا بلبلہ بن سکتا ہے۔ یہ دونوں باتیں آپس میں متصادم نہیں ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی انتہائی کارآمد اور تبدیلی لانے والی بھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی منڈی میں ایک بلبلے کی شکل بھی اختیار کر جائے۔ معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ٹیکنالوجی کے بلبلے کے پھٹنے کے لیے اس کا ناکام ہونا قطعی طور پر ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے صرف یہ بات کافی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی قابلِ تعینات رسد اور مالیاتی وعدے اس کی قابلِ منافع طلب سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھنے لگیں۔ موجودہ دور میں دنیا بھر کی بڑی تکنیکی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا سسٹمز پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اس بے پناہ سرمائے کی وجہ سے ہارڈ ویئر، چپس اور ڈیٹا سینٹرز کی فراسشت میں تو ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، لیکن دوسری طرف مارکیٹ میں اس کے تناسب سے ایسی حقیقی مانگ یا طلب پیدا نہیں ہو پا رہی جو اس بھاری بھرکم سرمایہ کاری کو سودمند ثابت کر سکے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں رسد اور طلب کا توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ جب کمپنیاں اپنی مصنوعات سے اتنی آمدنی حاصل نہیں کر پاتیں جتنی انہوں نے لاگت لگائی ہوتی ہے تو مالیاتی منڈیوں میں اضطراب پھیل جاتا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی، صنعتوں اور کاروبار کے مستقبل کو بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، لیکن وال اسٹریٹ اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کی کامیابی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ اس میں لگایا گیا ہر سرمایہ فوری طور پر منافع بخش ثابت ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں اس صنعت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کمپنیاں کس طرح اپنی پیداوار اور حقیقی مارکیٹ کی طلب کے درمیان ایک پائیدار توازن قائم کرتی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی جھٹکے سے بچا جا سکے۔