LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی قبضہ اور خطے میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی حقیقت

News Image
اسرائیل ایک ایسے چکر میں پھنس چکا ہے جسے اس نے خود تخلیق کیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور مزاحمت کی جڑیں اسرائیل کے طویل عرصے سے جاری غیر قانونی قبضے میں پیوست ہیں۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں تشدد اور ردعمل کا لامتناہی سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل خود کو ایک ایسے گرداب میں پھنسا ہوا پاتا ہے جسے اس نے خود اپنے اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے تخلیق کیا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کشیدگی کی بنیادی جڑ فلسطینی علاقوں پر طویل اور غیر قانونی اسرائیلی قبضہ ہے۔ اس قبضے نے نہ صرف مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کو سلب کیا ہے بلکہ مزاحمت کی لہر کو بھی مزید شدید بنا دیا ہے۔ تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جب بھی کسی خطے پر طاقت کے زور پر تسلط قائم کیا جاتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جاتے ہیں، تو وہاں کے باسیوں کی طرف سے ردعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے جاری فوجی کارروائیاں، بستیوں کی توسیع اور محاصرے نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی اور محرومی نے نئی نسل کو مزاحمت کی راہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل کی یہ پالیسی کہ وہ عسکری طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کر سکتا ہے، عملی طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہے کیونکہ جبر کا ہر واقعہ جوابی ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ پائیدار امن صرف اور صرف منصفانہ حل اور قبضے کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں حکومتی سطح پر تنازع کو طول دینے والے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کا سیکیورٹی ماڈل اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ جب تک لاکھوں افراد بنیادی آزادیوں سے محروم رہیں گے اور ایک غیر یقینی اور جابرانہ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے، تب تک خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نتیجتاً، یہ پورا تنازع ایک ایسے دائرے کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر آنے والا دن نئے بحرانوں کو جنم دیتا ہے۔ جب تک اس مکروہ چکر کی جڑ یعنی قبضے کو ختم نہیں کیا جاتا، تب تک اس خطے میں مستقل امن کا قیام ناممکن رہے گا۔ اسرائیل کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی نہ صرف اس کے اپنے شہریوں کے لیے عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے بلکہ پورے خطے کو ایک مستقل جنگ کی بھٹی میں جھونک رہی ہے، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔