World
ترکیہ سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ اور ممکنہ نئے ممالک
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ممکنہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے عالمی سطح پر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ اس میں کون سا ملک شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر کا نام اس حوالے سے زیر غور ہے لیکن قاہرہ دفاعی ذمہ داریوں سے احتیاط برت رہا ہے۔
عالمی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں اس وقت ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ایک ممکنہ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر شدید بحث جاری ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس اہم نوعیت کے دفاعی اتحاد میں خطے کے دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ مختلف تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کن ممالک کی شمولیت سے اس اتحاد کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے اہم ملک مصر کا نام بھی بطور امیدوار سامنے لایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیو پولیٹیکل اہمیت کے لحاظ سے مصر کا اس طرح کے کسی اتحاد کا حصہ بننا ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے کچھ مختلف ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قاہرہ اس طرح کے دفاعی وعدوں اور معاہدوں کے حوالے سے انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ فی الحال کسی بھی طویل المدتی یا پیچیدہ دفاعی ذمہ داری میں بندھنے سے گریزاں نظر آتا ہے۔
دوسری جانب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی دفاعی پیداوار اور عسکری تعاون کے شعبے میں گہرے تعلقات موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی دونوں ممالک کے تاریخی اور اسٹریٹجک روابط ہیں۔ ان تینوںممالک کا اتحاد خطے میں طاقت توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مسلم ممالک کی اس میں شمولیت کے امکانات کا جائزہ انتہائی گہرائی سے لیا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی سطح پر ہونے والے مذاکرات اس اتحاد کو وسعت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دیگر ممالک کی شمولیت کے دروازے کھلے ہیں، لیکن ہر ملک کے اپنے سکیورٹی خدشات اور خارجہ پالیسی کے تقاضے اس قسم کے دفاعی معاہدوں کی راہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔