LIVE
Loading Breaking News...

یمن اور سعودی عرب پر حوثی حملے، 11 افراد جاں بحق

News Image
یمن کی بندرگاہ مخا میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں گیارہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ان حملوں سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سعودی عرب کی جازان آئل ریفائنری پر بھی حملہ کیا گیا۔
یمن کے بندرگاہی شہر مخا میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع اور سرکاری حکام کے مطابق اس پرتشدد کارروائی میں تین شہری اور آٹھ فوجی اہلکار لقمہ اجل بنے جبکہ بتیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ شہری بھی شامل ہیں۔ تمام شہری جانی نقصان مخا کی بندرگاہ پر ہونے والے حملوں کے باعث سامنے آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے متعدد لہروں میں میزائل اور ڈرون داغے گئے جن کا نشانہ سرکاری فورسز کے علاوہ باب المندب کے قریب واقع جزائر کے مقامات بھی تھے۔ حوثی فوج کے ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف علاقے میں موجود سعودی اتحادی افواج اور ان کا دفاعی سامان تھا۔ دوسری جانب یمن کے سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے وقت کچھ مقامات پر سعودی فوجی بھی موجود تھے تاہم خلیجی مملکت کے کسی بھی فوجی اہلکار کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے شہر اور بندرگاہ کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ اسی روز سعودی عرب کی وزارت توانائی نے اعلان کیا کہ سول دفاعی ٹیموں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع جازان ریفائنری میں لگنے والی آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے۔ سعودی آرامکو کے صنعتی سکیورٹی کے فائر فائٹنگ عملے نے صبح کے وقت ریفائنری کے ایک حصے میں بھڑکنے والے شعلوں کو بغیر کسی جانی نقصان کے بجھا دیا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی سعودی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ جازان ریفائنری یومیہ چار لاکھ بیرل خام تیل پروسیس کرتی ہے اور اس حملے سے پلانٹ کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔ یمن میں حوثی باغیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان برسوں پرانی جنگ کا عارضی معاہدہ گزشتہ ماہ ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد سے لڑائی میں شدت آ چکی ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں اور سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی لائنوں کے حوالے سے بھی تحفظات بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے جس کی حمایت کئی ممالک بشمول پاکستان نے کی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔