LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس: سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان

News Image
سندھ حکومت نے تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تفتیشی ٹیم میں بھی ردوبدل کرتے ہوئے ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
کراچی: سندھ حکومت نے تاجر میر رضا علی کے پراسرار قتل کے معاملے پر سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کمیشن کے قیام کا بنیادی مقصد واقعے کی تہہ تک پہنچنا اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ اس اندمناک واقعے کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ اس سلسلے میں انتظامی امور کو تیزی سے حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ کمیشن جلد از جلد اپنی کارروائی کا آغاز کر سکے۔ دوسری جانب اس ہائی پروفائل کیس کی تفتیشی ٹیم میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تجربہ کار افسر ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نئی تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کیس کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھائیں گے۔ وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے پولیس افسران کو بھی تحقیقاتی ٹیم میں نامزد کر سکیں تاکہ تفتیش پر کسی قسم کے سوالات نہ اٹھ سکیں۔ حکومتی ترجمان اور وزراء کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران تاحال ایسے کوئی شواہد یا ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں جو یہ ثابت کریں کہ اس قتل کے پیچھے کوئی بڑی یا ہائی پروفائل شخصیت ملوث تھی۔ تاہم، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر زاویے سے معاملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی ٹیم تمام دستیاب ڈیجیٹل شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور عینی شاہدین کے بیانات کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔ لواحقین اور تاجر برادری کی جانب سے میر رضا علی کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور انصاف کے لیے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت کے اس تازہ فیصلے اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے امید کی جا رہی ہے کہ کیس کی تحقیقات میں شفافیت آئے گی اور مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جا سکے گا۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقاتی عمل میں کسی بھی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جائیں گے۔