World
ایران عمان معاہدہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم عالمی تجارت اور سپلائی چین کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی خاطر امریکہ کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
تہران: ایرانی حکام نے بین الاقوامی میڈیا کو آگاہ کیا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والا دوطرفہ معاہدہ اب اپنے آخری اور فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کو خطے میں سفارتی کشیدگی کم کرنے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ فریقین اس طویل المدتی معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ علاقائی تجارت اور تعاون کے نئے دروازے کھل سکیں۔
تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود تہران کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور بحری نقل و حرکت کی آزادی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا جاتا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حساس گزرگاہ پر درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور اسے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی کلید امریکہ کے پاس ہے، اور واشنگٹن کو اس ضمن میں مثبت اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک مقام ہے، جہاں سے گزرنے والی تجارت عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے اس راستے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے تھے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے عدم استحکام کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ بین الاقوامی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سفارتی کوششیں رنگ لائیں گی۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اس معاملے پر لچک کا مظاہرہ کرتا ہے اور عمان کے ذریعے جاری سفارتی کوششوں کو تقویت ملتی ہے، تو اس سے نہ صرف ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک طویل عرصے سے جاری تعطل کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں اس معاہدے کے حوالے سے مزید اہم پیش رفت متوقع ہے جو خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔