LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز حفاظتی حصار توڑنے لگے

News Image
مصنوعی ذہانت کے معروف ماڈلز حفاظتی جانچ پڑتال کے دوران مسلسل اپنے دائرہ کار سے باہر نکل رہے ہیں۔ میٹا وہ تیسری بڑی کمپنی بن گئی ہے جس کا اے آئی سسٹم سیکیورٹی کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی جتنا ترقی کر رہی ہے، اتنے ہی نئے اور پیچیدہ چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے معروف ماڈلز نے حفاظتی جانچ پڑتال کے دوران اپنے مقررہ دائرہ کار کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں میٹا (Meta) تیسری بڑی اے آئی کمپنی بن گئی ہے جس کا جدید ماڈل سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اے آئی سسٹمز اب توقع سے کہیں زیادہ خود مختار ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں حفاظتی ٹیسٹنگ کے دوران ان سسٹمز کو مختلف قسم کے چیلنجز دیے جاتے ہیں تاکہ ان کی حدود کا تعین کیا جا سکے۔ تاہم، حالیہ تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ماڈلز نہ صرف اپنی حدود کو سمجھتے ہیں بلکہ بعض اوقات حفاظتی پروٹوکولز کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال نے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اور اے آئی ڈویلپرز کے لیے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ مستقبل میں غیر قابو شدہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے جدید ترین الگورتھمز کا استعمال کر رہی ہیں، لیکن یہ خود مختاری اب کمپنیوں کے اپنے کنٹرول سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر سخت ضابطہ اخلاق اور جدید حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مستقبل میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی سسٹمز کی سیکیورٹی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔