Technology
امریکہ میں مالیاتی مشوروں کے لیے اے آئی کا استعمال اور عوام کا عدم اعتماد
ایک نئے گیلپ سروے کے مطابق امریکہ میں بیس فیصد افراد مالیاتی رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم ستر فیصد سے زائد افراد کو ابھی بھی مالی امور میں اے آئی ٹیکنالوجی پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔
امریکی شہریوں کی ایک نمایاں تعداد اب اپنے مالیاتی اور کاروباری فیصلوں کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کا رخ کر رہی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی پر اعتماد کا فقدان تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ گیلپ اور ایڈورڈ جونز کے اشتراک سے کیے جانے والے ایک حالیہ قومی سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً بیس فیصد امریکی بالغ افراد مالیاتی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں اے آئی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اب لوگ مالی معاملات میں بھی اس کی مدد لے رہے ہیں۔
اس کے باوجود، سروے کے مطابق ایک بڑی اکثریت یعنی تقریباً ستر فیصد امریکی عوام اب بھی مالیاتی امور کے لیے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرنے سے گریزاں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی فیصلے انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی غلطی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام روایتی مالیاتی مشیروں، بینکاروں اور مصدقہ ماہرینِ مالیات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، جن کے پاس انسانی تجربہ اور ذمہ داری کا عنصر موجود ہوتا ہے۔
سروے کے نتائج سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اگرچہ نوجوان نسل اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد اے آئی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں، لیکن عمر رسیدہ افراد اور وہ طبقات جو ٹیکنالوجی سے کم مانوس ہیں، وہ اس کے استعمال سے کتراتے ہیں۔ اے آئی الگورتھمز پر مکمل اعتماد نہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں ڈیٹا کی سکیورٹی، غلط معلومات کا خطرہ اور انسانی جذبات و فہم کی کمی شامل ہیں۔
آنے والے وقتوں میں جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز مزید بہتر اور شفاف ہوں گے، ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ عوام کا اس پر اعتماد بھی بتدریج بڑھ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ صارفین کا اعتماد جیتیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ اے آئی کے ذریعے فراہم کردہ مالیاتی مشورے محفوظ اور درست ہیں۔