Technology
وینزویلا زلزلہ: مصنوعی ذہانت والے ڈرونز کی امدادی کارروائیاں
وینزویلا میں حالیہ ہلاکت خیز زلزلوں کے بعد ریسکیو آپریشنز میں مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ ان جدید ڈرونز نے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور نقصان کے تخمینے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
وینزویلا کی تاریخ کے ایک سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھے جانے والے 23 جون 2026ء کو شمالی اور دارالحکومت کے خطے میں شدید نوعیت کے دو زلزلے آئے، جن کی شدت بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ اس بڑی قدرتی آفت نے پورے ملک میں شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ اس کٹھن گھڑی میں انسانی زندگیوں کو بچانے اور ملبے تلے دبے افراد تک فوری رسائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس ڈرونز کو میدان میں اتارا گیا، جس نے امدادی کارروائیوں کی رفتار اور اثر انگیزی کو یکسر بدل دیا۔
روایتی طریقوں کے مقابلے میں اے آئی ڈرونز نے ریسکیو ٹیموں کو ناقابل یقین حد تک مدد فراہم کی۔ جدید سنسرز، تھرمل امیجنگ اور خودکار پرواز کی صلاحیتوں کے حامل ان ڈرونز نے انتہائی خطرناک اور ناقابل رسائی علاقوں میں جا کر فوری طور پر سروے کیا۔ زلزلے کے فورا بعد جب سڑکیں بند ہو چکی تھیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم تھا، تو ان ڈرونز نے فضائی راستے سے متاثرہ علاقوں کی لائیو ویڈیو فیڈز فراہم کیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ریسکیو اہلکاروں کو یہ جاننے میں مدد ملی کہ سب سے زیادہ نقصان کہاں ہوا ہے اور کن مقامات پر فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز نے فوری طور پر ملبے کے نیچے انسانی موجودگی کی علامات کا سراغ لگایا، جس سے امدادی ٹیموں کا قیمتی وقت بچ گیا۔ عام طور پر ایسے بڑے پیمانے پر آنے والی آفات میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے کئی دن درکار ہوتے ہیں، لیکن اے آئی ڈرونز کے استعمال کی وجہ سے امدادی کارروائیاں ریکارڈ وقت میں شروع کی گئیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان ڈرونز نے خوراک، پانی اور ضروری ادویات ایسے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا جہاں زمینی راستے سے جانا ناممکن تھا۔
اس سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین حالات میں جدید ٹیکنالوجی کس طرح انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ڈھال بن سکتی ہے۔ وینزویلا کے اس واقعے کو اب عالمی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت کے کامیاب ترین استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے خودکار نظام اور ڈرونز کا استعمال ہر ملک کے ریسکیو فریم ورک کا لازمی حصہ ہونا چاہیے تاکہ کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔