World
عراق میں بدعنوانی کریک ڈاؤن: سابق گورنر احمد الجبوری گرفتار
عراق میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران صوبہ صلاح الدین کے سابق گورنر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر سرکاری کنٹریکٹس کے فنڈز میں خوردبرد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عراق میں بدعنوانی کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے ایک اور اہم مرحلے میں صوبہ صلاح الدین کے سابق گورنر احمد الجبوری اور ان کے ایک قریبی ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ عراقی دارالحکومت بغداد اور دیگر صوبوں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی وسائل کی لوٹ مار کو روکا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق احمد الجبوری اور ان کے ساتھی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں صلاح الدین صوبے کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری ہونے والے فنڈز میں خردبرد کی۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ان رقوم کو طے شدہ منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ذاتی مقاصد اور من پسند افراد کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ انسدادِ بدعنوانی کے محکمے کی جانب سے اس حوالے سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے تھے جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔
عراق میں حالیہ برسوں کے دوران بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کے خلاف عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اکثر احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں۔ موجودہ عراقی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اس سلسلے میں کئی اعلیٰ حکام اور با اثر شخصیات کو کٹہرے میں لایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ملکی نظام میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
گرفتار کیے گئے سابق گورنر اور ان کے ساتھی سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلائے جانے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ عراقی عوام اور سیاسی حلقے اس کارروائی کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ اس گھٹیا کرپشن نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔