LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس، سندھ حکومت کا عدلاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ

News Image
سندھ حکومت نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدلاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خودکشی کے امکانات کو مسترد کیے جانے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
کراچی میں پچیس سالہ نوجوان تاجر اور آئی بی اے کے فارغ التحصیل میر رضا علی کے پراسرار قتل کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سندھ حکومت نے اس دلخراش واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اتوار کے روز اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی سفارش پر سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدلاتی کمیشن بنایا جائے گا جو اس پورے واقعے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد لواحقین کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانا ہے۔ اس سے قبل صوبائی وزیر داخلہ اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے مقتول میر رضا علی کے گھر جا کر ان کے والدین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت چار گھنٹے طویل ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کیس کی اب تک کی تفتیش کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن فریال تالپور نے بھی وزیراعلیٰ کو ایک جامع اور شفاف انکوائری کے لیے عدلاتی کمیشن قائم کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جا سکے۔ تحقیقاتی عمل میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے سندھ پولیس کے آئی جی آفس نے ایک نئے پانچ رکنی تفتیشی دستے کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ڈپٹی آئی جی کرائم اینڈ انوسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم ہونے والی یہ نئی ٹیم مقتول کے والد کی مدحت پر درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل (دفعہ 302) اور شواہد چھپانے (دفعہ 201) کی نئی دفعات کے تحت تفتیش کرے گی۔ یہ فیصلہ مقتول کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ میر رضا علی کو پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی، جس نے پولیس کے ابتدائی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں اس واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر اور خاندان نے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹس اور ابتدائی پولیس تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ میر رضا علی کو اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کیا گیا۔ یاد رہے کہ پچیس سالہ میر رضا علی ستائیس جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہرسے برآمد ہوئی تھی۔ اب نئے جوڈیشل کمیشن اور نئی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس المناک واقعے کے اصل محرکات اور مجرم جلد قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔