World
نیتن یاہو نے امریکی غزه امن منصوبہ مسترد کر دیا
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزه کے حوالے سے پیش کردہ امریکی امن منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی افواج غزه سے باہر نہیں نکلیں گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزه کے حوالے سے سامنے آنے والے امریکی امن منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اپنے سکیورٹی مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اپنے حالیہ بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزه کی پٹی سے مکمل انخلا نہیں کرے گی جب تک فلسطینی تنظیم حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور اس کی عسکری صلاحیتیں ختم نہیں ہو جاتی ہیں۔
امریکی حکام کی جانب سے غزه میں جاری تنازع کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت کا یہ نیا مؤقف واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سفارتی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو کے اس دوٹوک بیان نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غزه میں فوری جنگ بندی اور عام شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی قیادت کے اس سخت مؤقف کے بعد خطے میں جنگ بندی کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ حماس کی طرف سے بھی تحال اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی شرائط کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور سفارتی سطح پر بحران کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔