Culture
شمون اسماعیل کا گانا زوہر مامدانی کی پلے لسٹ میں شامل
معروف پاکستانی گلوکار شمون اسماعیل نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر پذیرائی حاصل کر لی ہے جب ان کا گانا نیویارک کے سیاستدان زوہر مامدانی کی خصوصی پلے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ اس کامیابی پر ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔
معروف پاکستانی گلوکار اور نغمہ نگار شمون اسماعیل نے ایک بار پھر اپنی منفرد موسیقی کی بدولت بین الاقوامی سطح پر سرخیوں میں جگہ بنا لی ہے۔ حال ہی میں نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن زوہر مامدانی نے اپنی ایک خصوصی پلے لسٹ جاری کی ہے جس میں پاکستانی فنکار شمون اسماعیل کا گانا بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف شمون اسماعیل کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ یہ پاکستانی انڈی پاپ موسیقی کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی رسائی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
زوہر مامدانی جو کہ نیویارک کے ایک معروف ترقی پسند سیاستدان ہیں، اکثر اپنی ثقافتی وابستگیوں اور موسیقی کے انتخاب کی وجہ سے سوشل میڈیا پر چرچوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حالیہ موسیقی کی پسند میں جنوبی ایشیائی خطے کے فنکاروں کو نمایاں جگہ دی ہے، جس میں شمون اسماعیل کا نام سرفہرست ہے۔ شمون کی منفرد آواز اور دیسی وائبز پر مشتمل گانے ہمیشہ سے نوجوانوں میں بے حد مقبول رہے ہیں، اور اب اس بین الاقوامی توثیق کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
موسیقی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فنکار آج کل سرحدوں سے ماورا ہو کر عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ شمون اسماعیل کی موسیقی نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک مقبوضہ پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ زوہر مامدانی کی پلے لسٹ میں شامل ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مداحوں کی جانب سے مبارکباد اور تحسین کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی انڈی میوزک سین گزشتہ چند سالوں میں انتہائی تیزی سے ابھرا ہے اور دنیا بھر کے معروف پلیٹ فارمز اور شخصیات کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ شمون اسماعیل جیسے فنکار اپنی محنت اور منفرد تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی اعراف سے پاکستانی فنکاروں کو عالمی منڈی میں مزید آگے بڑھنے اور نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی، جو کہ پورے ملک کے ثقافتی منظر نامے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔