Technology
مصنوعی ذہانت اور کاروباری ای میل فراڈ: اربوں ڈالر کا سائبر نقصان
سائبر مجرم اب کاروباری ای میل کمپومائز (BEC) حملوں میں مصنوعی ذہانت کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ جدید تکنیکوں کی وجہ سے یہ دھوکہ دہی کے سکیمز انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں جن سے مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) نے انسانی زندگی اور کاروبار کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف سائبر مجرم بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں۔ کاروباری ای میل کمپومائز (BEC) سکیمز اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ ہیکرز مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسی جعلی ای میلز اور پیغامات تیار کرتے ہیں جنہیں پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اور یہ بالکل اصلی ملازمین یا اعلیٰ حکام کی تحریر جیسی معلوم ہوتی ہیں۔ اس قسم کے سائبر حملوں نے دنیا بھر کی چھوٹی بڑی کمپنیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس سے ہونے والا مالی نقصان اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی مدد سے مجرم اب متاثرہ شخص یا ادارے کی ماضی کی گفتگو، طرز تحریر اور کاروباری انداز کی نقل کر سکتے ہیں۔ اس جدید ترین جعل سازی کی وجہ سے ملازمین دھوکے میں آ جاتے ہیں اور حساس معلومات یا رقوم ایسے کھاتوں میں منتقل کر دیتے ہیں جو دراصل ہیکرز کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ فراڈ کا یہ نیا طریقہ کار روایتی فشنگ حملوں سے بہت آگے نکل چکا ہے کیونکہ اس میں ہر ای میل کو خاص ہدف کے لیے اے آئی کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور کارپوریٹ ادارے اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ کمپنیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو جدید سیکیورٹی ٹریننگ فراہم کریں اور ای میل کی تصدیق کے لیے کثیر جہتی توثیق (MFA) اور سخت پروٹوکولز نافذ کریں۔ اس کے بغیر اس بڑھتے ہوئے مالیاتی اور سائبر بحران پر قابو پانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ اے آئی پر مبنی جرائم دن بدن مزید جدید ہوتے جا رہے ہیں۔