LIVE
Loading Breaking News...

وی جی ٹی فنڈ کی سرمایہ کاری اور حصص کا تناسب

News Image
ویanguard انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈیکس فنڈ کا بڑا حصہ چند مخصوص حصص پر مشتمل ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک ہو سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں بغیر اثاثے فروخت کیے اس توازن کو بہتر بنانے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
وانگگارڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈیکس فنڈ (VGT) چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا ایک انتہائی مقبول اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فنڈ کا ایک بہت بڑا حصہ یعنی ہر ڈالر میں سے تقریباً چونتیس سے انتالیس سینٹ صرف تین بڑے حصص میں جا رہے ہیں۔ مارکیٹ کے اس طویل مدتی رجحان نے بعض سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ان کا پورٹ فولیو کافی حد تک متنوع ہے یا نہیں۔ اس صورتحال کا بنیادی نقصان یہ ہے کہ اگر ان چند بڑی کمپنیوں کو مارکیٹ میں کسی قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے تو پورے فنڈ کی کارکردگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو اپنے موجودہ اثاثے فوری طور پر فروخت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فروخت کیے بغیر بھی پورٹ فولیو کے توازن کو درست کرنے کے کئی متبادل طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایسے فنڈز کے ساتھ کسی دوسری موافق سرمایہ کاری یا ایسی حکمت عملی کو شامل کیا جائے جو ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں یا مختلف انڈسٹریز کا احاطہ کرتی ہو۔ اس جوڑ یا پیئرنگ کے ذریعے مجموعی پورٹ فولیو میں توازن پیدا ہو جاتا ہے اور ٹیک سیکٹر کے مخصوص حصص پر انحصار بھی کم ہو جاتا ہے بغیر اس کے کہ آپ کو ٹیکس یا اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے۔ مستقبل میں سرمایہ کاری کے حوالے سے یہ طریقہ کار انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف خطرات کا سدباب ہوتا ہے بلکہ سرمایہ کار اپنے طویل مدتی مالیاتی اہداف بھی باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ ماہرین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مارکیٹ کی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً اپنے پورٹ فولیو کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔