Politics
نینسی پلوسی کے خلاف اے آئی بوٹ متنازعہ بن گیا، ہٹادیا گیا
امریکی کانگریس میں نینسی پلوسی کی جگہ لینے کے خواہشمند ایک امیدوار کی جانب سے متعارف کروائے گئے اے آئی بوٹ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنسی اور نسل پرستانہ پیروڈی چیٹ بوٹ پر سابق اسپیکر نینسی پلوسی کے شدید غصے کے بعد اسے بالآخر ہٹا دیا گیا۔
امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پلوسی اس وقت شدید غصے میں آ گئیں جب کانگریس میں ان کی نشست کے امیدوار کی جانب سے ایک مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی پیروڈی چیٹ بوٹ متعارف کروایا گیا۔ اس چیٹ بوٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نینسی پلوسی نے اسے جنسی اور نسل پرستانہ قرار دیا، جس کے بعد تکنیکی طور پر اس متنازعہ پروجیکٹ کو ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے سیاسی استعمال اور اس کی اخلاقی حدود پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ چیٹ بوٹ ایک ایسے امیدوار کی انتخابی مہم کا حصہ تھا جو نینسی پلوسی کے جانشین کے طور پر سامنے آنا چاہتا تھا۔ تاہم، اس ڈیجیٹل ٹول کی جانب سے دیے جانے والے جوابات اور اس کا انداز انتہائی تضحیک آمیز اور متنازعہ تھا، جسے سیاسی حلقوں میں سخت ناپسند کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہمات میں اس طرح کی مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ صرف سیاسی اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
واقعے کے بعد عوامی اور سیاسی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ نینسی پلوسی کے حامیوں اور متعدد دیگر رہنماؤں نے بھی اس ڈیجیٹل ہراسانی اور نسل پرستانہ رویے کی بھرپور مذمت کی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد امیدوار کی ٹیم نے فوری طور پر اس اے آئی بوٹ کو آف لائن کر دیا اور اس معاملے پر صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے انتخابات میں اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے۔