LIVE
Loading Breaking News...

برکلے لیب کی نیوکلیئر فیوژن میٹریلز میں اہم سائنسی پیش رفت

News Image
برکلے لیب اور یو سی ڈیوس کے سائنسدانوں نے نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹرز کے ڈیزائن میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ تحقیق میٹریلز ڈرائیون فیوژن کے نئے شعبے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس اور لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے محققین نے نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹرز کے ڈیزائن میں ایک نمایاں اور اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔ اس نئی تحقیق نے سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ یہ فیوژن انرجی کے حصول کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے میٹریلز کے استعمال پر زور دیتی ہے۔ اس تحقیق کا مقصد ایسے پائیدار مواد کی تیاری ہے جو انتہائی زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ کو برداشت کر سکیں۔ نیوکلیئر فیوژن کو مستقبل میں لامحدود اور صاف توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ری ایکٹر کے اندرونی حصوں میں استعمال ہونے والے میٹریلز کی محدود پائیداری ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ اس ٹیم کی تحقیق میٹریلز ڈرائیون فیوژن نامی ایک نئے ابھرتے ہوئے شعبے کا حصہ ہے، جو فزکس کے ساتھ ساتھ مٹیریل سائنس کو یکجا کرتی ہے۔ اس نئی پیش رفت کے ذریعے سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ ایسے ری ایکٹرز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جو زیادہ دیر تک کام کر سکیں گے اور جن کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات بھی کم ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم تجارتی پیمانے پر فیوژن انرجی کے حصول کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے، لیکن موجودہ سائنسی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مٹیریل سائنس میں جدید ترقی کے ذریعے نیوکلیئر فیوژن کے طویل عرصے سے چلے آنے والے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر کے توانائی کے ادارے اس تحقیق کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔