LIVE
Loading Breaking News...

چین کی توانائی کی پالیسی اور مغربی ممالک کے لیے سبق

News Image
مغربی ممالک کو چین کے صرف صاف توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینے کے بجائے اس کی توانائی کے تحفظ کی حکمت عملی سے سیکھنا چاہیے۔ چین روایتی اور فوسل فیول کے شعبے میں بھی مضبوط بنیادیں تیار کر رہا ہے جو دنیا کے لیے اہم ہے۔
دنیا بھر میں اس وقت چین کی صاف توانائی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تو بہت زیادہ بات کی جا رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اقدامات روایتی توانائی کا مکمل متبادل بننے کی بجائے اس میں اضافہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک، بالخصوص یورپ، کو چاہیے کہ وہ چین کی صرف چمکدار صاف توانائی کی سرگرمیوں کو دیکھنے کے بجائے اس کی حقیقی توانائی کے تحفظ کی حکمت عملی کا بغور جائزہ لیں۔ چین جس طرح اپنی توانائی کی بنیادی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، وہ ایک قابل تقلید مثال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے فوسل فیول کے شعبے میں بھی اپنی پوزیشن کو انتہائی مضبوط رکھا ہوا ہے، جسے ایک طرح سے روایتی توانائی کی زبردست دیوار یا 'گریٹ وال' کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بیجنگ حکومت سولر، ونڈ اور دیگر سبز توانائی کے منصوبوں پر ریکارڈ سرمایہ کاری کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود صنعتی اور گھریلو ضروریات کے لیے کوئلے اور دیگر روایتی ایندھن پر انحصار مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ یہ متوازن حکمت عملی چین کو توانائی کے بحران سے محفوظ رکھتی ہے اور ملکی معیشت کو کسی بھی بیرونی جھٹکے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ دوسری طرف، یورپی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ معیشتیں اکثر ایک ہی سمت میں تیزی سے بڑھنے کے چکر میں اپنی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ جب کبھی عالمی سطح پر رس رسد میں تعطل آتا ہے یا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قابل توانائی کی پیداوار میں کمی ہوتی ہے، تو ان ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چین کا انرجی پلے بک یہ سکھاتا ہے کہ نئی توانائی کی طرف منتقلی کے دوران بھی پرانی اور مستحکم توانائی کی صلاحیتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ مستقبل میں عالمی توانائی کی سلامتی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک کس طرح روایتی اور جدید توانائی کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔ چین کا یہ ماڈل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور توانائی کا تحفظ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ لہذا، مغربی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ تعصبات سے بالاتر ہو کر بیجنگ کے اس جامع انداز کا مطالعہ کریں اور اپنی توانائی کی پالیسیوں کو زیادہ لچکدار اور مضبوط بنائیں۔