World
جنوبی افریقہ سے تارکین وطن کا انخلا اور حکومتی کریک ڈاؤن
جنوبی افریقہ میں حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پرتشدد واقعات کے بعد ایک لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد افریقی تارکین وطن ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اس اچانک انخلا نے خطے میں ایک بڑا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہرارے، زمبابوے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران ایک لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد افریقی تارکین وطن نے جنوبی افریقہ چھوڑ دیا ہے یا انہیں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جنوبی افریقی حکام نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ملک بھر میں ایک انتہائی سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ حکومتی پالیسیوں اور بعض علاقوں میں تارکین وطن کے خلاف پرتشدد ردعمل کے باعث لاکھوں غیر ملکیوں کے لیے وہاں رہنا ناممکن ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوبی افریقہ میں طویل عرصے سے مقیم غیر ملکیوں کو بھی روزگار کے حصول، رہائش اور بنیادی سہولیات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی آبادی اور حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد بہت سے تارکین وطن نے خود ہی رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ممالک بالخصوص زمبابوے، موزمبیق اور دیگر قریبی افریقی ممالک کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ اس اچانک ہجرت سے سرحدی چوکیوں پر شدید رش اور انسانی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنوبی افریقہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے بڑے پیمانے پر انخلا سے خطے میں اقتصادی عدم استحکام اور سماجی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے مسائل کو قانونی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے انسانی المیے سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی حکومت اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ ملکی سلامتی اور قوانین کی بالادستی کے لیے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ہیں۔