LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس: اہم فرانزک رپورٹ منظر عام پر

News Image
میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتول کی قمیض پر تیزاب کے ذرات پائے گئے ہیں۔ پولیس نے اس ثبوت کو کیس کا اہم رخ قرار دیتے ہوئے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اس وقت ایک نیا اور اہم موڑ آیا ہے جب فرانزک لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مقتول کی قمیض پر تیزاب کے ذرات موجود تھے۔ یہ شواہد کیس کی نوعیت کو تبدیل کرنے کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں اب اس نئے زاویے سے شواہد کو اکٹھا کر رہی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کے لباس پر تیزاب کے نشانات کا ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملزمان نے واردات کے دوران انتہائی سفاکانہ طریقے کا استعمال کیا یا پھر شواہد کو مٹانے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے لباس کو فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا تھا، جس کی رپورٹ اب تفتیشی افسران کو موصول ہو چکی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اب ان تمام افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جو اس واقعے کے وقت مقتول کے قریب موجود تھے یا جن پر شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔ تفتیشی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا تیزاب کا استعمال مقتول کو زخمی کرنے کے لیے کیا گیا یا یہ کسی سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد قتل کی واردات کو کسی دوسرے واقعے کا رنگ دینا تھا۔ دوسری جانب میر رضا علی کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے حکام بالا سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ نے ان کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض ایک سادہ قتل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ فرانزک رپورٹ میں ملنے والے ٹھوس شواہد کی مدد سے جلد ہی اصل قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون سے بچنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ مزید براں تفتیشی عمل کے دوران علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی نقل و حرکت کو ٹریس کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو آپس میں جوڑ کر ملزمان کے خلاف ایک مضبوط چالان تیار کیا جائے گا تاکہ عدالت میں ان کے لیے سزا سے بچنے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ کیس کی تفتیش کو حساس قرار دیتے ہوئے تمام پہلوؤں کو زیر غور رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔