LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی کوانٹم اور اسپیس ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت

News Image
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت اب ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے میدان میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے برابر کھڑا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کوانٹم ٹیکنالوجی اور خلائی شعبے میں دنیا کے چند سرکردہ ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔
مرکزی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت اب کوانٹم ٹیکنالوجی اور خلائی شعبے میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی سائنسی ترقی اب کسی بھی دوسری عالمی طاقت سے کم نہیں ہے اور ملک تیزی سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک عالمی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت مقامی مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے۔ وزیر موصوف نے مزید وضاحت کی کہ کوانٹم کمپیوٹنگ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بھارت کی شمولیت دنیا کے اولین ممالک میں ہوتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت اور ڈیٹا سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق، بھارت کی خلائی ایجنسیوں نے بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور اب بھارت نہ صرف اپنی ضرورتیں پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر خلائی ٹیکنالوجی کی خدمات بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان سائنسدانوں کی محنت اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کا شمار اب ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے چند صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اب مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سمت میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا جیسے پروگراموں نے ملک میں مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا ہے، جس سے نہ صرف ملکی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے اس امتزاج سے بھارت کی معیشت آنے والے دہائیوں میں مزید مستحکم ہوگی اور ملک عالمی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آخر میں، وزیر نے کہا کہ بھارت اب 'ٹیک فالوور' نہیں بلکہ 'ٹیک لیڈر' بننے کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ کوانٹم اور خلائی تحقیق میں کی گئی سرمایہ کاری کا مقصد نہ صرف سائنسی ترقی حاصل کرنا ہے بلکہ ان ٹیکنالوجیز کو عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کرنا بھی ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ بھارت 2047 تک ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک بن جائے گا جس کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی، جدید ترین مینوفیکچرنگ اور سائنسی خود انحصاری پر رکھی جائے گی۔