LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں RED کا ویڈیو ریکارڈنگ پیٹنٹ کالعدم، ٹیکنالوجی انڈسٹری میں بڑی ہلچل

News Image
جاپان کی انٹلیکچوئل پراپرٹی ہائی کورٹ نے پیناسونک کی جانب سے دائر چیلنج کے بعد ریڈ کمپنی کے کمپریسڈ را ویڈیو ریکارڈنگ کے پیٹنٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ہائی ریزولیوشن کیمروں کی دنیا میں ایک بڑی قانونی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جاپان کی انٹلیکچوئل پراپرٹی ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں ریڈ (RED) کمپنی کے کمپریسڈ را (Compressed RAW) ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق ایک کلیدی پیٹنٹ کو کالعدم قرار دینے کے جاپان پیٹنٹ آفس کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ قانونی لڑائی پیناسونک کی جانب سے دائر کیے گئے چیلنج کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ پیٹنٹ تکنیکی طور پر جدید نہیں ہے اور اسے پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کی بنیاد پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ عدالتی فیصلے کے بعد کیمرہ انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ ریڈ کمپنی طویل عرصے سے ویڈیو انڈسٹری میں اپنے پیٹنٹس کے سخت نفاذ کے لیے جانی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریڈ کا یہ پیٹنٹ ہائی ریزولیوشن کیمروں میں ڈیٹا کو کمپریس کرنے کے مخصوص طریقہ کار سے منسلک تھا، جس نے برسوں تک مارکیٹ میں دیگر کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں۔ پیناسونک کا موقف تھا کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی منفرد نہیں ہے کہ اسے خصوصی پیٹنٹ کا درجہ دیا جائے، اور عدالت نے اس تکنیکی بحث کو درست تسلیم کرتے ہوئے ریڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب دیگر کیمرہ ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات میں اسی طرح کی ریکارڈنگ ٹیکنالوجیز کو زیادہ آزادی کے ساتھ استعمال کر سکیں گی، جس سے مارکیٹ میں مسابقت کے نئے دور کا آغاز ہونے کی توقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات صرف جاپان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر کیمرہ اور ویڈیو پروڈکشن کے شعبے میں اس کے گہرے مضمرات ہوں گے۔ ریڈ کمپنی، جو کہ پیشہ ورانہ فلم سازی کے آلات کے لیے مشہور ہے، اب اس فیصلے کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ پیٹنٹ قانون کے تناظر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ بڑی کمپنیوں کو اپنے پیٹنٹ کے ذریعے مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کرنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ریڈ اس فیصلے کے خلاف مزید قانونی چارہ جوئی کرتی ہے یا انڈسٹری اس تکنیکی آزادی کو کیسے اپناتی ہے۔