World
کورنیل یونیورسٹی کے طالب علم کی متنازعہ گفتگو اور یہودی مخالف رویہ
کورنیل یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے یہودی آجروں کے لیے کام کرنے سے انکار کر کے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ طالب علم کی جانب سے سوشل میڈیا پر سفید فام بالادستی اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے خلاف عجیب و غریب بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکہ کی معروف آئیوی لیگ یونیورسٹی 'کورنیل' کے ایک طالب علم نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اپنے نسل پرستانہ خیالات اور انتہائی متنازعہ رویے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ مذکورہ طالب علم، جس نے ایک ممکنہ آجر کو صاف الفاظ میں یہ پیغام دیا تھا کہ وہ 'کسی یہودی کے لیے کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا'، اب اپنی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ اس واقعے نے تعلیمی حلقوں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں اس بات پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کے نظریات کس قدر انتہا پسندانہ ہو سکتے ہیں۔
صرف یہودی مخالف رویے تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس طالب علم نے سوشل میڈیا پر فائیو جی سیل سروس کے خلاف بھی ایک عجیب و غریب اور بے بنیاد بیانیہ جاری کیا ہے۔ اپنی پوسٹس میں اس نے فائیو جی ٹیکنالوجی کو سازش قرار دیتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے خطرناک قرار دیا، جس سے اس کی ذہنی کیفیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان غیر منطقی دعووں کے ساتھ ساتھ اس نے سفید فام بالادستی (وائٹ سپریمیسی) کے حق میں بھی کئی طویل اور غیر متوازن تحریریں پوسٹ کیں، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے نفرت انگیز مواد قرار دیا ہے۔
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے طالب علم کے ان نسل پرستانہ اور تعصب پر مبنی نظریات کے خلاف کارروائی کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نفرت انگیز بیانیے کا فروغ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ طالب علم کی جانب سے جاری کردہ یہ بیانات نہ صرف اس کی اپنی ساکھ بلکہ یونیورسٹی کے وقار کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
فی الحال اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی اور تعلیمی ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہا پسندانہ نظریات تیزی سے پھیل رہے ہیں اور نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔