Business
پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ اور ویلیو چین
پاکستان میں کپاس کی پیداوار اور آمد میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے جو معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ کپاس کے شعبے کو بحران سے نکال کر قومی مشن بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان میں کپاس کی ویلیو چین کو درپیش چیلنجز سے نکالنے اور اسے ایک قومی مشن کے طور پر آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حالیہ معاشی رپورٹس کے مطابق ملک میں کپاس کی پیداوار اور فیکٹریوں تک اس کی آمد میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے طویل عرصے سے زوال کا شکار ٹیکسٹائل کے شعبے میں نئی جان پڑنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کپاس کے شعبے کو مناسب سہولیات اور بروقت پالیسی معاونت فراہم کی جائے تو یہ ملکی برآمدات کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں کپاس کی نئی فصل کی آمد کے ساتھ ہی اس کی مقدار میں نمایاں اضافے کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ بعض علاقوں میں کپاس کی آمد میں اکہتر فیصد تک کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ایک مثبت معاشی اشارہ ہے۔ ماضی میں پاکستان کو کپاس کی ملکی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے کچی روئی درآمد کرنا پڑتی تھی، جبکہ تیار شدہ ملبوسات برآمد کیے جاتے تھے، جسے معاشی ماہرین ایک تضاد قرار دیتے رہے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ کاروباری حلقوں کی جانب سے اب اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کاشتکاروں کو معیاری بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات بروقت فراہم کی جائیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ کپاس کی صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ ویلیو ایڈیشن پر توجہ دیے بغیر طویل مدتی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس شعبے کو بحران سے نکال کر قومی سطح پر ترجیح دی جائے تو کسانوں کی مالی حالت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا تجارتی خسارہ بھی نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔