Technology
امریکہ میں فلاک لائسنس پلیٹ کیمروں کیخلاف احتجاج اور رازداری کے تنازعات
امریکہ میں 'فلاک' نامی کمپنی کے نصب کردہ گاڑیوں کی نگرانی کرنے والے کیمروں کے خلاف رازداری کے تحفظ کی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔ ملک بھر میں شہری اور کارکنان ان کیمروں کی تنصیب پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور بعض مقامات پر انہیں نقصان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں چند سالوں کے دوران نگرانی کے شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپ کمپنی 'فلاک' نے ایک لاکھ سے زائد لائسنس پلیٹ ریڈر کیمرے نصب کیے ہیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر جرائم کی روک تھام ہے۔ تاہم، ان کیمروں کے استعمال نے رازداری کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف ایک عوامی تحریک شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس تحریک کے تحت نہ صرف آن لائن احتجاج کیا جا رہا ہے بلکہ بعض مقامات پر کارکنان نے ان کیمروں کو توڑنے اور ناکارہ بنانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کیمرے شہریوں کی ذاتی زندگی میں غیر قانونی مداخلت کا ایک خطرناک ذریعہ ہیں، جن کا ڈیٹا کلاؤڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات پولیس ادارے اسے باآسانی آپس میں شیئر بھی کرتے ہیں۔
فلاک کے کیمرے روایتی سی سی ٹی وی کیمروں سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ یہ ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بجائے گاڑیوں کی اسٹیل تصاویر بناتے ہیں، جن میں گاڑی کا ماڈل، رنگ، نمبر پلیٹ اور دیگر خصوصیات شامل ہوتی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سنگین جرائم کے ملزمان کو پکڑنے میں انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے اور اس کی مدد سے کئی کیسز میں فوری گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ اس کے برعکس، شہریوں اور سول سمرتی کے اداروں کو خدشہ ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے بغیر وارنٹ کے شہریوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کم از کم پچاس پولیس افسران پر فلاک سسٹم کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں سے بیشتر نے اس کا استعمال اپنے ذاتی مقاصد یا سابقہ شریک حیات کی نگرانی کے لیے کیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ بھر میں مقامی سطح پر منظم تحریکیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کے خلاف بننے والے گروپس میں لاکھوں افراد شامل ہو चुके ہیں جو کیمروں کے مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان سے بچنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے اس تحریک کی تیز رفتار ترقی کو حیرت انگیز قرار دیا ہے۔ سیاسی طور پر بھی یہ معاملہ بائیں بازو اور دائیں بازو دونوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب تک لاس اینجلس سمیت کئی چھوٹے بڑے شہروں میں درجنوں میونسپلٹیز نے فلاک کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عام شہری مقامی سطح پر اپنی آواز بلند کر کے تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔