LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی پاؤنڈ کی مضبوطی، شرح سود کی توقعات میں کمی کا اثر

News Image
برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے آئندہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ تجارتی منڈیوں میں اس تبدیلی کے بعد پاؤنڈ کی خریداری میں تیزی آئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں پاؤنڈ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کے نرخ نیچے آئے ہیں۔ اس مالیاتی ہلچل کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کا وہ رویہ ہے جس کے تحت انہوں نے آئندہ مہینوں میں مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید بڑے اضافے کی توقعات کو کم کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، یہ تبدیلی اقتصادی اشاریوں کے بعد سامنے آئی ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراط زر میں کچھ حد تک اعتدال آ رہا ہے۔ بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی معیشت کو اس وقت مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کا اعتماد قدرے بہتر ہوا ہے۔ بینک آف انگلینڈ کی پالیسی کے حوالے سے نئی پیشگوئیاں سامنے آ رہی ہیں، جن کے مطابق مرکزی بینک اب شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے یا اس میں احتیاط سے قدم اٹھانے کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی ٹریڈرز نے پاؤنڈ کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی ڈالر کی کارکردگی پر بھی ان تبدیلیوں کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکی معیشت سے متعلق آنے والے تازہ اعداد و شمار نے وفاقی زرعی ریزرو کے آئندہ فیصلوں کے بارے میں مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے تجارتی مراکز میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ڈالر اپنی سابقہ برتری کو برقرار رکھ پائے گا یا عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں اسے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آنے والے دنوں میں مالیاتی منڈیوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ برطانیہ اور امریکہ سے افراط زر، روزگار اور مجموعی پیداوار کے کون سے نئے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ سرمایہ کار اور تاجر انتہائی احتیاط کے ساتھ مارکیٹ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے مالیاتی اتار چڑھاؤ سے بچتے ہوئے بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔