LIVE
Loading Breaking News...

سائبر حملے اور اے آئی سکیورٹی ماہرین کی بڑھتی ہوئی مانگ

News Image
سائبر خطرات کی پیچیدگی میں اضافے کے پیش نظر دنیا بھر کی کمپنیاں سکیورٹی ماہرین کی بھرتیوں میں تیزی لا رہی ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سکیورٹی جیسے خصوصی شعبوں میں ہنر مند افراد کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جدید دور میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور ڈیجیٹل جرائم کی پیچیدگی نے دنیا بھر کی کارپوریٹ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مختلف کمپنیاں اب اپنی سکیورٹی پالیسیوں کو مضبوط بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں بھرتیوں کی کوششوں کو تیزی سے بڑھا رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ہیکرز کے طریق کار بھی انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی سکیورٹی کے طریقے اب ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں اداروں کی جانب سے اب خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی تلاش پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ حالیہ رجحانات کے مطابق، کمپنیوں کی جانب سے اب مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کلاؤڈ سکیورٹی کے شعبوں میں خصوصی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ صرف خطرات کی بروقت نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ خودکار نظام کے ذریعے فوری دفاعی اقدامات کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب، چونکہ زیادہ تر کاروباری ڈیٹا اب کلاؤڈ پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکا ہے، اس لیے کلاؤڈ سکیورٹی کی اہمیت بھی دو چند ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا کسی بھی ادارے کے تسلسل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، تھریٹ انٹیلی جنس یعنی خطرات سے متعلق پیشگی معلومات اور تجزیے کا شعبہ بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کمپنیاں اب ایسے ماہرین کو ملازمت دینے کو ترجیح دے رہی ہیں جو ممکنہ سائبر حملوں کی پیشگوئی کر سکیں اور ہیکرز کے اگلے اقدام کا اندازہ لگا کر پہلے ہی سے حفاظتی حصار قائم کر سکیں۔ اس ابھرتی ہوئی صورتحال نے جہاں آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے روزگار کے نئے اور شاندار مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں تعلیمی اداروں اور ٹریننگ سینٹرز پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کی جدید ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سائبر سکیورٹی کے شعبے میں مقابلے کی فضا مزید سخت ہو گی کیونکہ ہر چھوٹا بڑا ادارہ اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ جو کمپنیاں بروقت جدید ترین سکیورٹی ماہرین کو اپنی ٹیم کا حصہ نہیں بنائیں گی، انہیں نہ صرف مالی نقصان بلکہ ڈیٹا چوری جیسے سنگین خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا، کارپوریٹ سیکٹر اب ٹیکنالوجی کے بجٹ میں سکیورٹی اور خصوصی ماہرین کی خدمات کے حصول کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔