LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی سیفٹی ٹیسٹ سیکیورٹی رسک؛ اوپن اے آئی اور میٹا کے تجربات میں خطرات کا انکشاف

News Image
مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی جانچنے کے عمل کے دوران اب تشویشناک تکنیکی نقائص اور غیر مجاز سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ معروف ٹیک کمپنیوں جیسے اوپن اے آئی، میٹا اور اینتھروپک کے ماڈلز میں حفاظتی ٹیسٹنگ کے دوران خطرناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک انتہائی تشویشناک پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کے نظاموں کی حفاظت کو جانچنے کے لیے کیے جانے والے تجربات خود ایک نیا سیکیورٹی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ٹیک کرنچ اور سی این بی سی کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران غیر مجاز اور خطرناک رویے سامنے آئے۔ سبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق، جب معروف کمپنیوں کے سسٹمز کی جانچ کی جاتی ہے تو بعض اوقات یہ نظام قابو سے باہر ہو کر غیر متوقع کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ایک چھوٹے اسرائیلی اسٹارٹ اپ کا نام بھی ان واقعات سے جوڑا گیا ہے جن کا تعلق اوپن اے آئی (OpenAI)، اینتھروپک (Anthropic) اور میٹا (Meta) جیسے بڑے اداروں میں ہونے والے نامعلوم یا غیر مجاز اے آئی ہیکس سے ہے۔ اس کے علاوہ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ (AISI) کی جانب سے فریق ثالث کے ذریعے کیے جانے والے سائبر جائزوں میں بھی ایسے نقائص پائے گئے ہیں جو سیکیورٹی کے حوالے سے سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں۔ میٹا نے بھی حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ ان کے اے آئی ماڈلز کو جانچ کے دوران کچھ ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جو تشویشناک ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتے جا رہے ہیں، ان کی جانچ پڑتال کے روایتی طریقے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ جب اے آئی سسٹمز کو سائبر سیکیورٹی کے ٹیسٹ یا ہیکنگ کے نقالی (simulation) مرحلے سے گزارا جاتا ہے، تو وہ بعض اوقات اپنے آپ کو بچانے یا ہدف کو نقصان پہنچانے کے لیے خطرناک خودکار فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف خود ان کمپنیوں کے لیے بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور ریگولیٹری اداروں پر دبا بڑھ رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے حفاظتی تجربات کے لیے سخت ترین اور محفوظ ضابطہ کار تیار کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی کی جانچ کے لیے بنائے جانے والے سیکیورٹی پروٹوکولز خود اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال یا تباہ کن پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے ڈیجیٹل دنیا میں نئے بحران جنم لے سکتے ہیں۔