World
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا اتحاد اور ایران کا ردعمل
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران فی الحال سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین کسی ممکنہ معاہدے کو اپنے لیے براہِ راست خطرہ نہیں سمجھتا۔ تہران کے حکام اس پیش رفت کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کے نئے معاہدوں اور روابط کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، تو مبصرین کی نظریں تہران کے ردعمل پر جمی ہوئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ ایران فی الحال اس پیش رفت کو اپنے لیے کسی فوری سکیورٹی خطرے کے طور پر نہیں دیکھ رہا ہے۔ تہران کی جانب سے اب تک سامنے آنے والے اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی حکام اس اتحاد کے عسکری پہلوؤں کے بجائے اس کے سیاسی مضمرات پر زیادہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات اور سرکاری سطح پر ہونے والی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تہران اس سہ فریقی پیش رفت کو خطے میں امریکہ کے کردار میں کمی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ ایران طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتا رہا ہے، لہذا علاقائی طاقتوں کا آپس میں قریب آنا تہران کے لیے ایک ایسی پیش رفت ہو سکتی ہے جسے وہ اپنی طویل مدتی حکمت عملی کے لیے مفید سمجھتا ہے۔ اگر یہ ممالک خطے کے مسائل کو خود حل کرنے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو ایران اسے واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک کوشش سمجھتا ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اس صورتحال کو انتہائی احتیاط کے ساتھ پرکھ رہا ہے۔ اگرچہ فی الحال ایران کو اس اتحاد سے کوئی براہِ راست خطرہ محسوس نہیں ہو رہا، لیکن تہران کے لیے یہ دیکھنا اہم ہے کہ آیا یہ معاہدے کسی مخصوص سیاسی یا دفاعی بلاک کی شکل اختیار کرتے ہیں جو ایران کے مفادات کے خلاف ہو۔ ایران کی اپنی خارجہ پالیسی میں 'پڑوسی پہلے' کی پالیسی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کے تحت وہ سعودی عرب کے ساتھ بحال ہونے والے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایران کی جانب سے کسی بھی جارحانہ ردعمل کے امکانات کم ہیں۔ تہران کا فوکس اس وقت اپنی معیشت کی بہتری اور خطے میں پائیدار سفارتی تعلقات قائم کرنے پر ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اگر خطے میں اقتصادی استحکام اور سکیورٹی کو فروغ دیتا ہے، تو ایران کے لیے بھی اس میں مواقع موجود ہیں۔ تہران اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خطے کا کوئی بھی نیا اتحاد اس کے لیے تنہائی کا باعث نہ بنے۔