LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث دفعہ 144 کا نفاذ

News Image
جنوبی وزیرستان اور ٹانک کی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پیر کے روز متعدد علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس دوران بازار بند رہیں گے اور اہم شاہراہوں پر غیر ضروری نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
جنوبی وزیرستان کے اضلاع (لوئر اور اپر) اور ٹانک کی ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پیر کے روز کئی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پابندیوں کا اطلاق صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک رہے گا، جس کے دوران مارکیٹیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہیں گے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان نے بتایا کہ وان ٹہصیل اور اس سے ملحقہ اہم شاہراہوں پر ہر قسم کی ٹریفک بند رہے گی۔ متاثرہ راستوں میں ٹیزا گیٹ، کارب کوٹ، تنئی اور عزیز آباد چوک سے درگئی پل تک کے روٹس شامل ہیں۔ اپر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر عرفان علی نے سرویکئی اور لڈھا ٹہصیل کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جہاں مختلف داخلی و خارجی راستوں بشمول میکین اور مولا خان سرائے جانے والی شاہراہوں پر سخت نگرانی کی جائے گی۔ اسی طرح ٹانک کے ڈپٹی کمشنر جمشید خان نے جنڈولہ سب ڈویژن میں نقل و حرکت پر پابندی عائد کی ہے اور اہم تجارتی مراکز کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ صرف ہنگامی طبی صورتحال میں ہی نقل و حرکت کی اجازت ہوگی، جس کے لیے شہریوں کو اپنے قومی شناختی کارڈز اور متعلقہ دستاویزات سیکیورٹی فورسز کو دکھانا ہوں گی۔ سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر گاڑیوں کو 50 میٹر پہلے رکنے اور تمام مسافروں کو گاڑی سے باہر نکلنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے تنبیہ کی ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل بھی جون میں اسی نوعیت کے سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے، اور حالیہ فیصلوں کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔ علاقہ مکینوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور پیر کے روز ان راستوں پر سفر کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران شدت پسندانہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ اپنی حکمت عملی کو مزید مستحکم کر رہی ہے تاکہ عوامی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔