LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کی روس کے اندر پیش قدمی اور تازہ ترین صورتحال

News Image
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کو روس کے اندر تک لے جانے کے لیے 40 روزہ خصوصی مہم کا اعلان کر دیا ہے۔ نقشے ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرین کی افواج اب روس کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی اور حملے کر رہی ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کے خلاف 40 روزہ خصوصی سٹرائیک مہم کے اعلان کے بعد سے جنگی صورتحال میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ نقشے اور فوجی تجزیات یہ واضح کرتے ہیں کہ یوکرین نے اب اپنی دفاعی حکمت عملی کو جارحانہ انداز میں تبدیل کر لیا ہے اور اب حملے یوکرین کی سرحدوں تک محدود رہنے کے بجائے روسی سرزمین کے گہرے حصوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس نئی مہم کا بنیادی مقصد جنگ کو روس کے قلب تک لے جانا ہے تاکہ وہاں کے نظام اور فوجی تنصیبات پر دباؤ ڈال کر جنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ فوجی ماہرین کے مطابق، یہ حکمت عملی نہ صرف یوکرین کے مورال کو بلند کرنے کے لیے ہے بلکہ اس کا مقصد روس کی سپلائی لائنوں اور لاجسٹک تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنانا بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرین کے ڈرون حملوں اور میزائلوں نے روس کے سرحدی علاقوں اور اس سے ملحقہ شہروں میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ ان حملوں کے ذریعے کیف انتظامیہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور روس کو اس کی جارحیت کی قیمت چکانی پڑے گی۔ دوسری جانب، روسی حکام نے ان حملوں کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ یوکرین کی یہ پیش قدمی جنگ کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گی۔ اگر یوکرین اپنی ان کارروائیوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو یہ نہ صرف ماسکو کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ہوگا بلکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن مذاکرات میں یوکرین کا پلڑا بھی بھاری کر دے گا۔ عالمی برادری اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، کیونکہ جنگ کا دائرہ کار بڑھنے سے خطے میں مزید کشیدگی اور غیر مستحکم حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ فی الحال، یوکرین کی فوج اپنی محدود وسائل کے باوجود روس کے اندر گہرے حملوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کا بھرپور استعمال کر رہی ہے۔ زیلنسکی کا موقف ہے کہ جنگ تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک روس کو اس کے اپنے دفاع کے لیے درپیش مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ یہ 40 روزہ مہم اب آنے والے ہفتوں میں جنگی نقشہ جات پر مزید اثر انداز ہوگی اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ روسی فوج اس اچانک اور شدید دباؤ کا مقابلہ کس طرح کرتی ہے۔