LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں اے آئی فیکٹریاں اور ڈیجیٹل تبدیلی، این ویڈیا کا بیان

News Image
برطانوی اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب میں ڈیٹا سینٹرز اب مصنوعی ذہانت کی فیکٹریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ این ویڈیا کا ماننا ہے کہ یہ جدید انفراسٹرکچر مملکت کی اگلی ڈیجیٹل ترقی کی بنیاد بنے گا۔
ریاض سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اب کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے عروج کے بعد اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر تبدیلی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران ملک بھر کے روایتی ڈیٹا سینٹرز بتدریج جدید مصنوعی ذہانت (AI) کی فیکٹریوں میں تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا (NVIDIA) کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں مملکت کی اگلی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے بنیادی قوت ثابت ہوں گی اور اس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا ہو گا۔ اس نئے تکنیکی دور میں سعودی عرب کے اندر جدید ترین ہارڈویئر، طاقتور جی پی یو سسٹمز اور اے آئی پر مبنی ماڈلز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ مصنوعی ذہانت کی فیکٹریاں محض ڈیٹا محفوظ کرنے کے مقامات نہیں ہوں گی بلکہ یہ ایسے مراکز ہوں گے جہاں سے خودکار نظام، ذہین الگورتھم اور جدید ترین کمپیوٹنگ سلوشنز تیار کیے جائیں گے۔ حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ملک میں ڈیجیٹل اکو سسٹم کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ طویل المدتی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ این ویڈیا کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لامحدود مواقع موجود ہیں۔ وژن 2030 کے تحت ملک کو خطے کا ٹیکنالوجی حب بنانے کی جو کوششیں جاری ہیں، یہ اے آئی فیکٹریاں ان میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سطح پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سعودی عرب کی پوزیشن بطور ڈیجیٹل رہنما مزید مستحکم ہو گی۔