Technology
جینسن ہوانگ کا جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال پر دو ٹوک موقف
اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک منتخب عہدیدار نہیں ہیں اور امریکہ کے جنگی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے۔ انہوں نے اینتھروپک اور پینٹاگون کے تنازعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی کمپنی کی ٹیکنالوجی کے غیر ضروری استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا کی بڑی کمپنی 'اینویڈیا' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا ہے جس نے ٹیکنالوجی اور سیاست کے درمیان جاری بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ ہوانگ سے جب ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اینتھروپک کمپنی اور پینٹاگون کے درمیان جاری تنازعہ اور ٹیکنالوجی کے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال پر سوال پوچھا گیا تو انہوں نے بہت واضح اور دو ٹوک جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور ایک کاروباری شخصیت اور سی ای او، ان کی پوزیشن ایک منتخب عوامی نمائندے جیسی نہیں ہے، اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ جب امریکہ کسی جنگ میں مصروف ہو تو انہیں غیر ضروری طور پر فون کالز کے ذریعے مداخلت کے لیے کہا جائے۔
جینسن ہوانگ نے اس بات پر زور دیا کہ نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کو ملکی دفاعی حکمت عملیوں میں براہ راست فریق نہیں بننا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلیکون ویلی کی بڑی ٹیک کمپنیاں دنیا بھر کی حکومتوں اور دفاعی اداروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔ ہوانگ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر اور دنیا کے لیے مفید بنانا چاہتے ہیں، لیکن قومی سلامتی اور جنگی فیصلوں کا بوجھ ان کمپنیوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے جو حکومتوں کے زیر انتظام نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ہوانگ کا یہ موقف انتہائی معنی خیز ہے کیونکہ آج کل اے آئی ٹیکنالوجی کا دفاعی شعبوں میں استعمال ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف دفاعی ادارے ٹیکنالوجی کے جدید ترین ٹولز حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں دوسری طرف ٹیک کمپنیاں اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ ہوانگ نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ ان کا کام ٹیکنالوجی کی فراہمی تک محدود رہے نہ کہ سیاسی اور فوجی فیصلوں میں شرکت۔
آخر میں، یہ بیان اس وسیع تر بحث کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جنگی تنازعات میں کتنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اینویڈیا کے سربراہ کا یہ موقف ان کمپنیوں کے لیے ایک مثال ہو سکتا ہے جو اپنی ساکھ بچانے اور سیاسی تنازعات سے دور رہنے کی خواہشمند ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔