LIVE
Loading Breaking News...

کاغذ سازی میں انقلاب: کمبرلی کلارک کا پائیدار متبادل کی تلاش

News Image
معروف ملٹی نیشنل کمپنی کمبرلی کلارک نے کاغذ کی تیاری کے لیے درختوں کی جگہ ہسپریلو نامی پودے کے ریشوں کو استعمال کرنے کے لیے تحقیق شروع کر دی ہے۔ یہ پودا کم پانی میں نشوونما پانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے ماحولیاتی تحفظ میں مدد ملے گی۔
عالمی شہرت یافتہ ملٹی نیشنل پیپر گڈز کمپنی 'کمبرلی کلارک' نے کاغذ کی تیاری کے روایتی طریقوں میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈلاس بزنس جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ایسی پیٹنٹ ٹیکنالوجی کی نشاندہی کی ہے جس کے ذریعے 'ہسپریلو' (Hesperaloe) نامی پودے کے ریشوں سے کاغذ تیار کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام نہ صرف کمپنی کی تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ہسپریلو ایک ایسا پودا ہے جسے اگنے کے لیے بہت کم مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے اور اس کی نوکیلی پتیوں سے حاصل ہونے والے ریشے کاغذ سازی کے عمل میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درختوں کی کٹائی کے بجائے اس طرح کے متبادل پودوں کا انتخاب جنگلات کو بچانے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کمبرلی کلارک کی تحقیق کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی کاغذ کی صنعت میں درختوں پر انحصار کو بتدریج ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو طویل مدتی بنیادوں پر ایک ماحول دوست حل ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ کاغذ کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جبکہ روایتی جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کمبرلی کلارک اب اپنی اس نئی ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے کے مراحل میں ہے تاکہ کمرشل سطح پر اس کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو یہ کاغذ سازی کی پوری صنعت کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرے گا۔ اس تحقیق سے نہ صرف خام مال کی دستیابی میں آسانی ہوگی بلکہ زرعی شعبے میں بھی ایک نئی فصل متعارف کرائی جا سکے گی جس کے لیے پانی کی قلت کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ کمپنی کی جانب سے اس پیش رفت کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ماحولیاتی تحفظ کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا کی دیگر بڑی کمپنیاں بھی اس ماڈل کی پیروی کرتی ہیں یا نہیں۔